معاشرے کو آگے بڑھانے میں خواتین کی قیادت کا اہم کردار

0
Home >News >معاشرے کو آگے بڑھانے میں خواتین کی قیادت کا اہم کردار

غازی یونیورسٹی، ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد کی زیر سرپرستی، ویمن ڈویلپمنٹ سنٹر غازی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ورکنگ خواتین کا قومی دن منایا گیا۔ اور "معاشرے کو آگے بڑھانے میں خواتین کی قیادت کا اہم کردار" کے موضوع پرایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈیرہ غازی خان شہر کی نمائندہ خواتین کو مدعو کیا گیا جنہوں نے معاشرے کی بہتری کے لیے اپنے اپنے فیلڈ میں اہم کردار اد اکیئے ہیں۔ مہمان خواتین میں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ میڈم نورین اقبال ترین،زیب تن سے میڈم مہ نور، ویمن چیمبر آف کامرس سے میڈم فرح بشیر ، انچارج دارالامان زرنیہ بی بی، ڈینٹل سرجن میڈم صالبیہ بتول بھٹی، اور ورکنگ ویمن ہاسٹل انچارج انیسہ فاطمہ شامل تھیں۔ اس موقع پر یونیورسٹی کی طالبات کثیر تعداد میں موجود تھیں۔ پروگرام کی نظامت ویمن ڈویلپمنٹ سنٹر کی فوکل پرسن اور لیکچرار شعبہ سوشیالوجی میڈم سمیرا بانو نے ادا کیئے۔ صدر شعبہ سوشیالوجی ڈاکٹر محمد علی تارڑ نے تمام مہمان خواتین اور شرکاء کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کیا اور آج کے دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یہ دن خواتین کی محنت، ان کی خدمات، اور ان کے حقوق کو اجاگر کرنے کا دن ہے۔اس کا مقصد کام کرنے والی خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا، ان کے حقوق کے بارے میں شعور پیدا کرنا، اور انہیں معاشرے میں ان کے کردار کے حوالے سے تسلیم کرنا ہے۔ اس کے بعد تمام مہمان خواتین نے حاضرین کو اپنے اپنے شعبہ میں حاصل کردہ کامیابیوں کے بارے بتایا۔ کہ کس طرح انہوں نے اس معاشرے میں محنت کی، اپنی مقام پیدا کیا اور اپنے شعبہ میں کامیابی حاصل کی، انہوں نے طالبات ک حوصلہ افزائی کی کہ وہ کسی بھی طور مردوں سے کم نہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہے اور اس معاشرے میں اپنی نمایاں جگہ بنانی ہے۔ چاہے وہ سرکاری جاب میں ہوں یا کاروباری خواتین ہوں، یا گھریلو خواتین، انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر آگے بڑھنا ہے اور اپنی حفاظت بھی کرنی ہے۔ انہوں نے مرد اور خواتین کے درمیان تنخواہ، مواقع اور ترقی میں برابری لانے کی اہمیت پر زور دیا ۔ خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی دینے اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے پر بات کی ۔اور یہ بات خوش آئیند ہے کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں اس حوالے سے قانون سازی، آگاہی مہمات، اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میڈم فرح بشیر نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کاروبار شروع کرنے پر زور دیا، میڈم مہ نور نے طالبات کو اپنی کاروباری کامیابیوں کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے بغیر پیسے کے کاروبار شروع کیا اور آج کس مقام پر پہنچی ہیں۔ میڈم نورین اقبال نے خواتین کو ان کے حقوق کے بارے قوانین کی آگاہی دی، اور انہیں کسی بھی مسئلہ کی صورت میں قانونی سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ میڈم زرینہ بی بی نے مڈل کلاس خواتین کے حوالے سے اپنی ذاتی زندگی کے مشاہدات سے آگاہ کیا، خواتین کو محفوظ ٹرانسپورٹ مہیا کرنے بارے کہا، میڈم انیسہ نے پنجاب گونمنٹ کی طرف سے خواتین کی بہتری کے اقدامات کے بارے بتایا۔ اور ان کو اپنے حقوق یاد دلائے۔
رجٹسٹرار غازی یونیورسٹی ڈاکٹر عابد محمود علوی نے بطور مہمان اعزاز اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کام کی جگہ پر خواتین کے حقوق کی پاسداری اور ان کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہر ادارے می ذمہ داری ہے اور غازی یونیورسٹی میں خواتین کے حقوق پر کافی کام ہورہا ہے، اس ضمن میں ویمن ڈویلپمنٹ سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ، علاوہ ازیں اس یونیورسٹی میں بزنس انکوبیشن سنٹر اور ای روز گار مکرز قائم کیئے گئے ہیں جہاں برابری کی سطح پر طلباء اور طالبات کو کاروباری اور کمپیوٹر سے تعلق تربیت فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ وہ اپنے پاوں پرکھڑے ہوسکیں اور معاشی طور پر مستحکم ہوسکیں۔ علاوہ ازیں ہراسگی سیل کا قیام بھی عمل میں لایا جاچکا ہے جہاں تمام طالبات کسی بھی قسم کی ہراسگی کے خلاف درخواست دے سکتے ہیں اورانہوں نے اس موقع پربتایا کہوائس چانسلر غازی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد کا خواتین سے ہراسگی پر عدم برداشت کی پالیسی ہے اور کوئی بھی شخص ایسی ہراسگی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف ضابطہ کی سخت کاروائی کی جائے گی۔ پروگرام کے آخر میں میڈم سمیرا بانو نے تمام مہمان خواتین اور شرکاء کی تشوریف آوری کا شکریہ کیا، پروگرام کا اختتام ایک گروپ فوٹو سے ہوا تاکہ ان تاریخی لمحات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔

About the author

Web Admin

Web developer at Ghazi University, Dera Ghazi Khan
0 Responses